شاعری: نوازش علی


صدائیں تشنگی کی گونجتی ہیں
زمینیں بادلوں کو کھوجتی ہیں

دیارِ غیر میں جو کھو گیا ہے
اسے گاؤں کی آنکھیں ڈھونڈتی ہیں

مرا بچہ کسی سے کم نہیں ہے
یہ مائیں کتنا اچھا سوچتی ہیں

وہ آنکھیں کتنی بوجھل ہو چکی ہیں
بڑی مشکل سے آنسو روکتی ہیں

یہ شب کی چاندنی ہے میری دشمن
یہ کرنیں میری نیندیں نوچتی ہیں

مری آوازیں اونچے گنبدوں سے
مری جانب ہی آخر لوٹتی ہیں

کئی سرگوشیاں اکثر ہوا میں
ترے لہجے کی صورت بولتی ہیں
*

نوازش علی

No comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *